Bait Bazi

یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے
مجھے لگا کہ زمیں میرے اختیار میں ہے
​
 

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
مِل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر

​
 

روشن ہے اب بھی داغ تمھارا دِیا ہُوا
کام آئی ایک پل کی نِشانی تما عُمر

​
 
رکھ دیں گے تِرے پاؤں میں ہم موج میں آ کر
دُنیا ہے کہاں جان کی قیمت کے برابر
​
 

خودبخود تُو مِری سوچوں میں اُتر آتا ہے
تُجھ سے بڑھ کر کوئی عادت نہیں پالی میں نے
​
 
اربابِ عقل و ہوش میں میرا بھی نام تھا
دیوانہ ہوگیا ہوں تجھے دیکھنے کے بعد
​
 

تجھے ڈھونڈنے کے لیئے یادوں کی کُھلی سڑکوں پر
خُشک پتّوں کی طرح روز بکھر جاتا ہوں
​
 
ہم سبک گام محبت کے تھے قائل ورنہ
تیری رفتار سے چلتے تو کہاں تک چلتے

​
 
عکس عکس، گماں گماں، خیال سارے مُسترد
تو نہیں تو کچھ نہیں، سوال سارے مُسترد
​
 
وحشت کی کالی رات میں تنہا ستارہ میں
یعنی کہ اپنی ذات کا واحد سہارا میں
​
 
بھنور میں مجھ کو جو ڈال آتے تو بات تم پر کبھی نہ
آتی
یوں مجھ کو ساحل پہ لا ڈبونا کوئی سنے گا تو کیا کہے گا​
 

ﮐﻼﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ ﻗﻮﺱِ ﻗﺰﺡ ﮐﮯ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
​
 

پائیـں گے اب کہاں مجھے، یارانِ ناشــناس
میں خود سے ہوں فرار، مرا کچھ پتہ نہیں
​
 

حلقہء چشم مِرا سوچ کے نم ہوتا ہے
جانے اب کس پہ تِرا دستِ کرم ہوتا ہے
پھول دیتے ہوئے لوگوں کو بتائے کوئی
یہ خسارے کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے
​
 


کالا جادُو​

میرا تمام فن، مِری کاوش مِرا ریاض
اک ناتمام گیت کے مِصرعے ہیں جن کے بیچ
معنی کا ربط ہے نہ کسی قافیے کا میل
انجام جس کا طے نہ ہو ایک ایسا کھیل
مِری متاع بس یہی جادُو ہے عشق کا
سیکھا ہے جس کو میں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ
لیکن یہ سحرِ عشق کا تحفہ عجیب ہے
کُھلتا نہیں ہے کچھ کہ حقیقت میں کیا ہے یہ
تقدیر کی عطا ہے کہ کوئی سزا ہے یہ
کس سے کہیں اے جان کہ یہ قصہ عجیب ہے
کہنے کویوں تو عشق کا جادُو ہے میرے پاس
پر میرے دل کے واسطے اتِنا ہے اِس کا بوجھ
سینے سے اِک پہاڑ سا ہٹتا نہیں ہے یہ
لیکن اثر کے باب میں ہلکا ہے اِس قدر
!تُجھ پہ اگر چلاؤں تو چلتا نہیں ہے یہ
امجد اسلام امجد
​
 
کسی کو دینا یہ مشورہ کے وہ دُکھ بچھڑنے کا بُھول جائے
اور ایسے لمحے میں اپنے آنسو چُھپا کے رکھنا، کمال یہ ہے
​
 
Back
Top