Asad
Well-known member
طلوع شمس مفارقت ہے
پرانی کِرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرز رہی ہیں
! پرانی کرنیں
فصیلِ شہرِ وفا کے روزن
چمکتے ذروں سے بھر گئی ہیں
چکمتے زرّے
گئے دنوں کی عزیز باتیں
نگار صبحیں . . . گلاب راتیں
بساطِ دل بھی عجیب شے ہے
ہزار جیتیں . . . ہزار ماتیں
جدائیوں کی ہوائیں لمحوں کی خشک مٹی اُڑا رہی ہیں
گئی رُتوں کا ملال کب تک؟
چلو کے شاخیں تو ٹوٹتی ہیں
چلو کے قبروں پہ خون رونے سے
!اپنی آنکھیں ہی پھوٹتی ہیں
یہ موڑ وہ ہے جہاں سے میرے تمھارے رستے بدل گئے ہیں
پرانی راہوں کو لوٹنا بھی ہماری تقدیر میں نہیں
کے راستے بھی ہمارے قدموں کے ساتھ آگے نکل گئے ہیں
طلوع شمس مفارقت ہے !
تم اپنی آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے ستاروں کو موت دے دو
،گئی رتوں کے تمام پھولوں، تمام خاروں کو موت دے دو
نئے سفر کو حیات بخشو
کے پچھلی راہوں پہ سبت جتنے نقوش پا ہیں
وہ بار ہونگے
!ہوا اُڑائے کے تم آڑاؤں
پرانی کِرنیں نئے مکانوں کے آنگنوں میں لرز رہی ہیں
! پرانی کرنیں
فصیلِ شہرِ وفا کے روزن
چمکتے ذروں سے بھر گئی ہیں
چکمتے زرّے
گئے دنوں کی عزیز باتیں
نگار صبحیں . . . گلاب راتیں
بساطِ دل بھی عجیب شے ہے
ہزار جیتیں . . . ہزار ماتیں
جدائیوں کی ہوائیں لمحوں کی خشک مٹی اُڑا رہی ہیں
گئی رُتوں کا ملال کب تک؟
چلو کے شاخیں تو ٹوٹتی ہیں
چلو کے قبروں پہ خون رونے سے
!اپنی آنکھیں ہی پھوٹتی ہیں
یہ موڑ وہ ہے جہاں سے میرے تمھارے رستے بدل گئے ہیں
پرانی راہوں کو لوٹنا بھی ہماری تقدیر میں نہیں
کے راستے بھی ہمارے قدموں کے ساتھ آگے نکل گئے ہیں
طلوع شمس مفارقت ہے !
تم اپنی آنکھوں میں جھلملاتے ہوئے ستاروں کو موت دے دو
،گئی رتوں کے تمام پھولوں، تمام خاروں کو موت دے دو
نئے سفر کو حیات بخشو
کے پچھلی راہوں پہ سبت جتنے نقوش پا ہیں
وہ بار ہونگے
!ہوا اُڑائے کے تم آڑاؤں