Bait Bazi

Uljhey huwe hein kab se isi aik sawal mein
aatey hein hum bhi kya kabhi tere khayal mein
 
پھر دل کو ہو گئی ہے وہی راہ گزر عزیز
پھر آ گئے فریب میں ہم مدتوں کے بعد​
 
ہر بار مجھے اذیت مجھے جدائی نہ دیا کر
تو میرا نہیں مجھ کو دکھائی نہ دیا کر
سچ جھوٹ تیری زبان سے ہوتا ہے ظاہر
قسم نہ اٹھا اتنی صفائی نہ دیا کر
​
 
ایک مدت سے روابط ہیں تعطل کا شکار
بند ملتے ہیں کئی فون، خدا خیر کرے​
 
رکھا ہی گھر میں کیا ہے کہ ترتیب دُوں جسے
کچھ خواب ہیں اِدھر سے اُدھر کر رہا ہوں میں​
 
!اے دُور نگر کے بنجارے، کیوں آج سفر کی ٹھانی ہے
یہ بارش، کیچڑ ، سرد ہوا، اور راہ کٹھن انجانی ہے​
 
پڑھنے سے پیشتر اسے چوما ہزار بار
سادہ دلوں نے خط کو صحیفہ سمجھ لیا
وہ قحط روشنی تھا کہ مجھ کم شناس نے
جگنو چمک اٹھا تو ستارہ سمجھ لیا
 
ماہر تھا وہ سیاستِ ہجر و وصال میں
اُس نے کبھی رقیب کو چاہا کبھی ہمیں​
 
اِس درجہ مجھے خود میں مقفّل نہ کریں آپ
اس درجہ اسیری میں محبت نہیں ہوتی​
 
کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا​
 
عادت اکیلے پن کی ، جو پہلے عذاب تھی
اب لُطف بن گئی ہے ، اذیت نہیں رہی​
 
نظر سے دور ہو کر بھی یہ تیرا روبرو رہنا
کسی کے پاس رہنے کا سلیقہ ہو تو ایسا ہو​
 
Back
Top