Bait Bazi


مت ڈال میری نیند کے کشکول میں سپنے
اب مجھ سے تیرے بوجھ اٹھائے نہيں جاتے
​
 

دھڑکنیں تیز ہوئیں ، اور قدم رُکنے لگے
پھر تِیرے شہر میں آ کر، تِیری دیوار کے پاس
​
 

نیم خوابیدہ سی آنکھیں آخر شب کی تھکن
کچھ ادھورے رتجگے ہیں ناشتے کی میز پر
​
 
Mein to jalte huwe sehraon ka ik pathar tha
tum to darya the, meri pyas bujhate jate
mujh ko rone ka saleeqa bhi nahi hae shaed
log haste hein mujhe dekh ke aate jaate
 

جب غرض ہوئی تب پوچھ لیا
جب وقت مِلا تب یاد کیا
اب اور حقیقت کیا لِکھوں
اِس دور کے مُخلص یاروں کی

​
 
ہم کو روزی کھینچ لائی، شہر کے صحراؤں میں
پھول، تتلی، ایک لڑکی، رہ گئے سب گاؤں میں
​
 

سدا سُکھی رہیں چہرے وہ ہم جنہیں مُحسن
بُجھے گھروں کی کُھلی کِھڑکیوں میں چھوڑ آئے
​
 

گُنگُناتے راستوں کی دلکشی اپنی جگہ
اور سب کے درمیاں تیری کمی اپنی جگہ
​
 
1731626086161.webp
 

‏میں اُس سے عُمر میں دو چار سال چھوٹا تھا
وہ مُجھ سے بارہا کہتی تھی مار کھاؤ گـے ​
 
Back
Top