دیکھ، نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے
چھوڑ نہ یار مثالوں سے کہاں سمجھیں گے
بول ناں، اِن کو بتا عشق نے کھینچا ہے سکون
لوگ بکھرے ہوئے بالوں سے کہاں سمجھیں گے
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے
یہ دل کہ تیرے بعد سنبھلتا بھی نہیں ہے
اک عُمر سے ہم اُس کی تمنا میں ہیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں اُترتا بھی نہیں ہے
ہم کو منظور نہیں پھر سے بچھڑنے کا عذاب
اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں
کب تلک در پہ کھڑے رہنا ہے، اُن سے پوچھو
کیا وہ محشر کا تماشہ بھی یہیں چاہتے ہیں؟