Bait Bazi

ہم نے روتی ہوئی آنکھوں کو ہنسایا ناصر
اِس سے بہتر تو عبادت نہیں ہوتی ہم سے​
 
ہونٹ سینے سے کہاں بات چھپی رہتی ہے
بند آنکھوں سے اشارے تو نہیں ہوتے ناں
ہجر تو اور محبت کو بڑھا دیتا ہے
اب محبت میں خسارے تو نہیں ہوتے ناں​
 
تجھ سے درکار تھی مسیحائی
مشورے تو وکیل دیتے ہیں
باندھ رکھنے کے ہم نہیں قائل
ہم محبت میں ڈھیل دیتے ہیں​
 
جینے ہیں چار دن میں ہزاروں برس کے دکھ
افسانہ یہ طویل بھی ہے مختصر بھی ہے​
 
ایسی بے چین طبیعت سے کہیں بہتر ہے
ہم کسی دشتِ بیاباں کی وحشت ہوتے
 
دیکھ، نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے
چھوڑ نہ یار مثالوں سے کہاں سمجھیں گے
بول ناں، اِن کو بتا عشق نے کھینچا ہے سکون
لوگ بکھرے ہوئے بالوں سے کہاں سمجھیں گے​
 
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے
یہ دل کہ تیرے بعد سنبھلتا بھی نہیں ہے
اک عُمر سے ہم اُس کی تمنا میں ہیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں اُترتا بھی نہیں ہے​
 
ہم کو منظور نہیں پھر سے بچھڑنے کا عذاب
اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں
کب تلک در پہ کھڑے رہنا ہے، اُن سے پوچھو
کیا وہ محشر کا تماشہ بھی یہیں چاہتے ہیں؟​
 
تم سے کیوں دل کے مسائل پہ کوئی بات کرے
تم تو ہر بات پہ کہتے ہو کوئی بات نہیں​
 
اُس پر اُترے تھے محبت کے صحیفے لیکن
ایک کافر کہاں تورات کا مطلب سمجھے

اِس سے پہلے تو دعاؤں پہ یقیں تھا کم کم
تُو نے چھوڑا تو مناجات کا مطلب سمجھے

تجھ کو بھی چھوڑ کے جائے تِرا اپنا کوئی
تُو بھی اک روز مکافات کا مطلب سمجھے​
 
آنکھوں سے ختم کیجئے پچھلے سبھی حساب
دل کو نہ چھیڑیئے کہ وہ مشکل سے جُڑا ہے​
 
کبھی اعتبار ِاُلفت کبھی ہم سے بدگُمانی
تیری یہ بھی مہربانی تیری وہ بھی مہربانی​
 
جب گھاؤ سبھی دست مسیحا سے ملے ہوں
پھر کس کے گلے لگتے کسے رو کے دیکھاتے​
 
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو​
 
کبھی کبھی یہ ترا مجھ سے ہم سخن ہونا
منافقت بھی اگر ہے تو خوبصورت ہے​
 
Back
Top