Bait Bazi

سب کو سیرابِ وفا کرنا خود کو پیاسا رکھنا
مجھ کو لے ڈوبے گا اے دل تیرا دریا ہونا​
 
ہم نے سوچا تھا کہ گھل مِل کر ذرا کم ہوگا
رنج بڑھتا گیا لوگوں سے شناسائی میں​
 

ہم تِرے نام سے مشہور زمانے میں ہوئے
اور تِرے دل سے اُتر جانا تعارف ٹھہرا​
 
ممکن نہیں کہ ساتھ نبھائیں تمام عمر
ممکن بھی کس طرح ہو کہ دونوں ذہین ہیں
میں ان دنوں بہت سے مسائل میں ہوں گھِری
تُو نے بچھڑنا ہے تو یہ دن بہترین ہیں
 
دل ہی عیار ہے بے وجہ دھڑک اٹھتا ہے
ورنہ افسردہ ہواؤں میں بلاوا کیسا​
 
ہر شخص دوڑتا ہے یہاں بھیڑ کی طرف
پھر یہ بھی چاہتا ہے اسے راستہ ملے​
 
یہ مُحبت تو بُہت بعد کا قِصہ ہے میاں
میں نے اُس ہاتھ کو پکڑا تھا پریشانی میں​
 
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی
دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے​
 
رائیگانی کا وہ عالم ہے کہ یوں لگتا ہے
میرے حصے میں خسارے بھی نہیں آئیں گے​
 
سرِ مقتل بھی تیرے نام کے چرچے ہوتے
تو نے پوچھی ہی نہیں آخری خواہش میری
 
کرتے ہیں یاد اب بھی، بتاتے نہیں اسے
نقصان رُک گیا ہے، حماقت نہیں رُکی
 
جس کے گھر میں کہیں کھڑکی ہے نہ دروازہ کوئی
اُس کی تنہائی کا کیسے کرے اندازہ کوئی
 

Tujh se doori ka humein dukh to bohat hae lekin
teri qurbat ke hum asbaab kahan se latey?
 
نازک اگر نہیں ہے تو شیشہ ہے بے جواز
بھاری اگر نہیں ہے تو پتھر خراب ہے
آگاہ میں چراغ جلاتے ہی ہو گیا
دنیا مِرے حساب سے بڑھ کر خراب ہے​
 
تم نہ سمجھو گے کوئی اور سمجھ لے گا اِسے
خامشی درد کی ترسِیل بھی ہو سکتی ہے​
 
تم کو معلوم ہے یہ آخری نیندیں ہیں مری
!وسعتِ خواب ذرا اور بڑھا سکتے ہو
کب تقاضا ہے نبھانے کا مگر جاتے ہوئے
!میرے اندر سے بھی کیا خود کو مٹا سکتے ہو​
 
Back
Top