Bait Bazi

​

کالا جادُو​

میرا تمام فن، مِری کاوش مِرا ریاض
اک ناتمام گیت کے مِصرعے ہیں جن کے بیچ
معنی کا ربط ہے نہ کسی قافیے کا میل
انجام جس کا طے نہ ہو ایک ایسا کھیل
مِری متاع بس یہی جادُو ہے عشق کا
سیکھا ہے جس کو میں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ
لیکن یہ سحرِ عشق کا تحفہ عجیب ہے
کُھلتا نہیں ہے کچھ کہ حقیقت میں کیا ہے یہ
تقدیر کی عطا ہے کہ کوئی سزا ہے یہ
کس سے کہیں اے جان کہ یہ قصہ عجیب ہے
کہنے کویوں تو عشق کا جادُو ہے میرے پاس
پر میرے دل کے واسطے اتِنا ہے اِس کا بوجھ
سینے سے اِک پہاڑ سا ہٹتا نہیں ہے یہ
لیکن اثر کے باب میں ہلکا ہے اِس قدر
!تُجھ پہ اگر چلاؤں تو چلتا نہیں ہے یہ
امجد اسلام امجد

​

بہت عمدہ نظم ہے، بہت ہی پُر اثر۔​
 

کیا عجب لوگ ہیں الجھے ہوئے الجھائے ہوئے
ساتھ رہتے ہوئے, ہنستے ہوئے ,اکتائے ہوئے
​
 

آتے آتے یونہی دم بھر کے رُکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یونہی پل بھر کو خِزاں ٹھری ہے بہار

​
 

اتنی فُرصت بھی کِسے ہے لیکن
گاہے گاہے ہمیں پُوچھا کیجیئے

​
 

​

کالا جادُو​

میرا تمام فن، مِری کاوش مِرا ریاض
اک ناتمام گیت کے مِصرعے ہیں جن کے بیچ
معنی کا ربط ہے نہ کسی قافیے کا میل
انجام جس کا طے نہ ہو ایک ایسا کھیل
مِری متاع بس یہی جادُو ہے عشق کا
سیکھا ہے جس کو میں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ
لیکن یہ سحرِ عشق کا تحفہ عجیب ہے
کُھلتا نہیں ہے کچھ کہ حقیقت میں کیا ہے یہ
تقدیر کی عطا ہے کہ کوئی سزا ہے یہ
کس سے کہیں اے جان کہ یہ قصہ عجیب ہے
کہنے کویوں تو عشق کا جادُو ہے میرے پاس
پر میرے دل کے واسطے اتِنا ہے اِس کا بوجھ
سینے سے اِک پہاڑ سا ہٹتا نہیں ہے یہ
لیکن اثر کے باب میں ہلکا ہے اِس قدر
!تُجھ پہ اگر چلاؤں تو چلتا نہیں ہے یہ
امجد اسلام امجد

​

(y) کمال کی نظم ہے اسد​
 

قریہؑ جاں میں کوئی پُھول کِھلانے آئے
وہ میرے دِل پہ نیا زخم لگانے آئے

​
 

لکھی گئی ہے نامہؑ اعمال میں میرے
جن لغزِشوں سے دُور کی نسبت نہیں مُجھے

​
 

کون واقف ہے اُس اذیت سے
!پھول نے جو عُمر کِتاب میں کاٹی
​
 

یہ تیری توجہ کا اعجاز ہے کہ مجھ سے
ہر شخص تِرے شہر کا برہم ہے میری جاں
​
 

مِری آرزو کی دُنیا، دلِ ناتواں کی حسرت
جسے کھو کے شادماں تھے، اُسے آج پا کے روئے

​
 

فصلِ گُل ہے، سجا ہے مئے خانہ
چل مِرے دِل، کُھلا ہے مئے خانہ

​
 
نجانے دیکھ کے کیوں اُن کو یہ ہُوا احساس
کہ میرے دِل پہ اُنہیں اِختیار آج بھی ہے
​
 

وہ پیار جس کے لیئے ہم نے چھوڑ دی دُنیا
وفا کی راہ میں گھائل وہ پیار آج بھی ہے
​
 

یقیں نہیں ہے مگر آج بھی یہ لگتا ہے
میری تلاش میں شاید بہار آج بھی ہے
​
 

کون مانے گا اب کِس کو یقیں آئے گا
میں وہی ہوں جو کبھی جان سے پیارا تھا تمھیں

​
 
Back
Top