Bait Bazi

کہتی ہے تشنگی کسی دریا سے جا ملو
فطرت کا کیا کروں جسے صحرا سے عشق ہے
​
 
وہ دن گئے کہ داغ تھی ہر دم بُتوں کی یاد
پڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم

​
 
میرا ضمیر بُہت ہے مجھے سزا کے لیئے
تُو دوست ہے نصیحت نہ کر خُدا کے لیئے

​
 
لہجے کو ذرا دیکھ جواں ہے کہ نہیں ہے
بالوں کی سفیدی کو بُڑھاپا نہیں کہتے​
 

میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
​
 
اگر وہ پوچھ لیں ہم سے تمھیں کس بات کا غم ہے
تو پھر کس بات کا غم ہے، اگر وہ پوچھ لیں ہم سے


​
 
اِک طرف دنیا ہے میرے، اک طرف چاہت تیری
سامنا ہے روز مجھ کو دو رُخی شمشیر کا
​
 
ہم وہ سیاہ نصیب ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دُکان کفن کی تو سب مرنا چھوڑ دیں

​
 
نہ آنکھوں میں آنسو، نہ لب پر ہنسی ہے
تِری زندگی بھی کوئی زندگی ہے

​
 
طُوفاں میں جیسے دُور سے ساحل دیکھائی دے
میں اُن کو سوچ لوں مجھے منزل دِکھائی دے​
 
یوں تو بےشُمار ہیں وفا کی نِشانیاں
لیکن ہر ایک شے سے نِرالے تمھارے خط
​
 
تم کو میری دھڑکن کے توازن کی قسم ہے
اِس دل سے اترنا بھی سلیقے سے پڑے گا
اِس بار تو چرچے بھی تعلق کے بہت ہیں
اِس بار بچھڑنا بھی سلیقے سے پڑے گا​
 

مَر جاتے ہیں ہر روز کئی لوگ اچانک
اور ہم کو یہ لگتا ہے ابھی عُمر پَڑی ہے
​
 
سب سے مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اُترے ہوئےلوگوں میں گزارا کرنا
​
 
سب سے بڑا فریب ہے خود زندگی اداؔ
اس حیلہ جو کے ساتھ ہیں ہم بھی بہانہ ساز​
 


یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو​
 
لوگ بِچھڑیں تو بسا لیتے ہیں دُنیا پھر سے
ہم تو بس ہاتھ چُھڑاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
 
ہزاروں عیب تھے مجھ میں،مجھے معلوم تھا یہ بھی
مگر اک شخص تھا ناداں مجھے انمول کہتا تھا​
 

Jo bhi is dil pe guzarti hae wo sab janta hae
koi jaane ke na jane mera rab janta hae
 
Back
Top