Bait Bazi

ٹکٹی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو
یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو​
 
روز جھولی میں نئے درد اُلٹ دیتا ہے
وقت سے دیکھا نہیں جاتا میرا دامن خالی
 
یہ چبھن اکیلے پن کی، یہ لگن اُداس شب سے
میں ہوا سے لڑ رہا ہوں، تجھے کیا بتاؤں کب سے
 
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣُﮩﻠﺖ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺩﯼ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﭽﮭﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﺍُﺳﮯ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺭﮐﮭﺎ​
 
محبتوں کے عوض جب اذیتیں ملی تو
پتا چلا کہ یہاں بے حسی ضروری ہے
کہیں سے کاش کوئی خیر کی خبر آئے
بہت گھٹن میں ذرا تازگی ضروری ہے​
 
اُس نے صحرا میں قدم رکھا تو میاں
دشت کو بخت لگے، ریت پہ جوبن آیا​
 
نشاط انگیز شاموں کا تسلسل اس طرح ٹوٹا
کہ گہری نیند سے یک دم کوئی بیدار ہو جائے​
 
سرِ صحرا مُسافر کو سِتارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے
تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جاتی ہے
ہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے​
 
تم سے کیوں دل کے مسائل پہ کوئی بات کرے؟
تم تَو ہر بات پہ کہتے ہو کوئی بات نہیں​
 
Mujh ko khush rang bahaaron ki ghataa hona tha
mujh ko haalaat ki talkhi ny magar zaya kia
 
یوں دیجئے فریب محبت کہ عمر بھر
میں زندگی کو یاد کروں زندگی مجھے
 
بارشوں کو عادت ہے، وحشتیں بڑھانے کی
اپنا غم چھپانے کو دیر تک برستی ہیں
 
عمُر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی
عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو
دل شکستہ ہے، کوئی ایسا ہُنر مند بتا
جس نے ٹُوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو
 
میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں
یہ جو لوگ محوِ کلام تھے مجھے کھا گئے​
 
وہ میرے گھر نہیں آتا میں اُس کے گھر نہیں جاتا
مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا​
 
مر جائے گی یک طرفہ محبت بھی کسی دن
کب تک کوئی صحراؤں کو سیراب کرے گا​
 
Back
Top