پٙلکوں کی مُنڈیروں پہ اُتر آتے ہیں چُپ چاپ
غّم ایسے پرندے ہیں جو پالے نہیں جاتے
جب تھا تو بہت پُختہ تھا اِک شخص سے رشتہ
ٹوٹا ہے تو اب ٹُکڑے سنبھالے نہیں جاتے
مِرے اشکوں پہ تجھے اِتنا تعجب کیوں ہے
تُو نے چشمے نہیں دیکھے کبھی کہسار کے ساتھ؟
اب تو میں صرف تعلق کے عِوض بیٹھا ہوں
اب تو سایہ بھی نہیں ہے تِری دیوار کے ساتھ