Bait Bazi

کتنا نادم ہوں کسی شخص سے شکوہ کر کے
مجھ سے دیکھا نہ گیا اُس کا پشیماں ہونا​
 
ٹھہر ٹھہر کے بلا سر سے ٹل رہی ہے ابھی
خدا کے ساتھ مری بات چل رہی ہے ابھی
ہمارے پاس، کہیں چارہ گر! نہ آ جانا
کہ مشکلوں سے طبیعت سنبھل رہی ہے ابھی​
 
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمُر گزری ہے تیرے شہر میں آتے جاتے​
 
خاموش ہے گاؤں تیری ہجرت کے ہی دن سے
پیڑوں پہ پرندے بھی تیرے بعد نہ بولے​
 
اپنی آنکھوں سے میرا عکس مٹانے والے
میں نے رکھے ہیں تیرے خواب امانت کی طرح​
 
کہیں وہ ضد میں ارادہ بدل نہ دے اپنا
زیادہ دیر بھی اس کو خفا نہیں رکھنا
مجھے قبول ہے خالی پڑا رہوں لیکن
جہاں پہ تم ہو کوئی دوسرا نہیں رکھنا
 
ہاۓ ! وہ شخص کہ جو نیند کی وادی میں کہیں
تیری آواز سے بیدار ہو اور تُو نہ ملے
 
پٙلکوں کی مُنڈیروں پہ اُتر آتے ہیں چُپ چاپ
غّم ایسے پرندے ہیں جو پالے نہیں جاتے
جب تھا تو بہت پُختہ تھا اِک شخص سے رشتہ
ٹوٹا ہے تو اب ٹُکڑے سنبھالے نہیں جاتے​
 
تم ہو باغات پہ اُڑتی ہوئی تتلی کی مثال
میں وہ بچہ جو تعاقب میں لگا رہتا ہوں​
 
کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
تمہارا درد کئی کام لے گیا مجھ سے​
 
ایسا ارزاں کیا تُو نے کہ ہمیں یاد آیا
ایک دنیا ہمیں اَن مول کہا کرتی تھی​
 
مِرے اشکوں پہ تجھے اِتنا تعجب کیوں ہے
تُو نے چشمے نہیں دیکھے کبھی کہسار کے ساتھ؟
اب تو میں صرف تعلق کے عِوض بیٹھا ہوں
اب تو سایہ بھی نہیں ہے تِری دیوار کے ساتھ​
 
اُس کے کمرے سے اُٹھا لایا ہوں یادیں اپنی
خُود پڑا رہ گیا لیکن کسی الماری میں​
 
عین ممکن ہے کسی لمحہِ بیزاری میں
تُو مِری سمت بڑھے اور مَیں دُنیا کی طرف​
 
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
 
تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا
 
پانی سستا ہے تو پھر اس کا تحفظ کیسا
خون مہنگا ہے تو ہر شہر میں بہتا کیوں ہے​
 
اُس کے لہجے کی رمزیت اکثر
مجھ کو مشکل میں ڈال دیتی ہے​
 
عجب ہجوم تھا بےچینیوں کا سینے میں
ہم اپنی بھیڑ میں تیرا خیال کھو بیٹھے
 
Back
Top